समाचार

مسلم پرسنل لاء میں کسی قسم کی مداخلت منظور نہیں۔عبید اللہ اعظمی

 

شکیل احمد قا دری ۔ دارالعلوم یتیم خانہ صفویہ کرنیل گنج گونڈہ کا ۵۷ سالہ جشن دستار بندی بیادگار ۱۴۰۰ سالہ جشن ولادت حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بنام زین العباء کانفرس کا انعقاد ہوا۔
واقعۂ کربلا کے بعد پیغمبر اسلام کے دین کو ہم تک پہونچانے کا عظیم کارنامہ سید سجاد کے ذریعہ ہوا ہے مسلمان اسکا پابند ہے دنیا کی کوئی بھی طاقت یا حکومت کی مداخلت کسی بھی قیمت پر منظور نہیں۔ہندوستان میں بسنے والے لوگ مختلف تہذیبوں اور مذہبوں کے ماننے والے ہیں یہ کسی بھی صورت میں یکساں سول کوڈ کومنظور نہیں کریں گے کیونکہ اس سے انکے رسم و رواج متاثر ہونگے۔
ان خیالات کا اظہار دارالعلوم یتیم خانہ صفویہ کے ۵۷ سالہ جشن دستار بندی میں سابق ایم پی (راجیہ سبھا)مولانا عبید اللہ خاں اعظمی نے کیا اس جلسے کی افتتاح بعد نماز عشاء جلوس سجادیہ کے ساتھ پھولوں کی برسات سے ہوا جس کی خوشبوسے مسلمانوں کے قلوب سید سجاد کی محبت سے معطر ہوگئے ۔ اور آغازحضرت مولانا سید معین اشرف اشرفی جیلانی سجادہ نشین کچھوچھ شریف کی صدارت اور ڈاکٹر حفیظ الرحمن کی نظامت میں تلاوت کلام پاک سے ہوا بعد نعت خوانی حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی نے سید سجاد کے حیات وخدمات کے مختلف گوشوں سے رو شناس کراتے ہوئے فرمایا کہ اس مبارک جلسے کا پیغام ہے کہ ہم علمائے کرام سید سجاد کے حیات و خدمات کے تعلق سے تقریر ،تصنیفی اور تحقیقی جانکاری عوام تک پہونچائے۔
انگلینڈ سے تشریف لائے ورلڈ اسلامک مشن کے جنر ل سکریٹری مولانا قمر الزماں خاں اعظمی نے فرمایا کہ مسلمانوں کو آج پوری دنیامیں جن مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اوروے جو قربانیاں دے رہے ہیں یہ کبھی رائیگاں نہیں ہوئیں۔جب جب اسلام کو دبانے یا ختم کرنے کی دشمنان اسلام نے کوشش کی تب تب اسلام اور زیادہ توانائی کے ساتھ تابندہ ہوا۔
سربراہ اعلیٰ دارالعلوم یتیم خانہ صفویہ نے پوری دنیا کو سید سجاد کی ۱۴۰۰ سالہ جشن ولادت کی مبارک باد دیتے ہوئے دور دراز سے آئے ہوئے علماء اور عوام الناس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ سید سجاد کی سیرت دور حاضر میں بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہے اسی تصور کے ساتھ اس جشن کا اہتمام کیا گیا ہے۔اس کے بعد دستار بندی کا روح پرور نظارہ سامعین کے سامنے تھا جس میں ۹۴ حافظ قرآن کو دستار سے نوازا گیااور اختتام بعد سلام حضور عزیز ملت سربراہ اعلیٰ الجامعۃ الاشرفیہ کی رقت انگیز دعاؤں پر ہوا۔
دن میں بعد نماز ظہر ایک سمینار حضرت مولانا انیس احمد اشرفی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مولانا مبارک حسین ، مولانا ذیشان مصباحی ، ڈاکٹر ممتار عالم رضوی ، ڈاکٹر سعدی علوی، مولانا ساجد رضا اور مولانا ابو العاص حسن نے اپنے اپنے مقالے میں حضرت امام زین العابدین کے حیات و خدمات کے مختلف گوشو ں کو اجاگر کیا ۔